2 جون 2011 - 19:30

لندن ... امریکا اور برطانیہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سابق طالبان حکومت کے رہنماوٴں پر عائد پابندیاں ہٹانے کی غرض سے اقوام متحدہ پر دباوٴ ڈال رہے ہیں۔

ابنا: امکان ہے کہ رواں ماہ 18 رہنماوٴں پر پابندیاں ختم کردی جائیں گی ۔یہ انکشاف برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کہا جارہا ہے کہ افغان حکومت 47 شخصیات کے نام فہرست سے نکالنے کے لئے 16جون سے پہلے اقوام متحدہ کی سینکشنز کمیٹی میں درخواست جمع کرائے گی۔ تاہم افغان حکام اب تک صرف اٹھارہ شخصیات کے متعلق دستاویزی کام مکمل کرسکے ہیں۔پابندیوں کی فہرست سے نام نکالنے کے لئے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کی منظوری درکار ہوگی۔ روس واضح کرچکا ہے کہ وہ ایسے کسی اقدام کا مخالف ہے۔جن سابق طالبان رہنماوٴں پر پابندیاں ختم کرانیکی کوشش کی جارہی ہے ان میں سابق طالبان حکومت کے مذہبی پولیس کے سربراہ محمد قلم الدین اور سابق وزیر تعلیم ارسلا رحمانی بھی شامل ہیں۔ امریکا اور برطانیہ کا یہ کوششیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ مغربی طاقتیں طالبان کیساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتی ہیں۔ ایک افغان وزیر کا کہنا ہے کہ سابق طالبان رہنماوٴں پر پابندیوں کے خاتمے سے کسی تیسرے ملک میں طالبان کے سیاسی دفتر کے قیام میں مدد ملے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت